ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / مایاوتی ناراض، اب ضمنی انتخابات میں کسی بھی پارٹی کو حمایت نہیں دیں گی

مایاوتی ناراض، اب ضمنی انتخابات میں کسی بھی پارٹی کو حمایت نہیں دیں گی

Wed, 28 Mar 2018 00:02:12    S.O. News Service

لکھنؤ ،27؍ مارچ (ایس اونیوز؍آئی این ایس انڈیا)اتر پردیش میں سماجوادی پارٹی اور بہوجن سماج پارٹی کے درمیان سب کچھ ٹھیک نہیں چل رہا ہے اور اب بی ایس پی سربراہ مایاوتی نے کہا ہے کہ کیرانہ پارلیمانی سیٹ اور نورپر اسمبلی سیٹ پر ہونے والے ضمنی انتخابات میں ان کی پارٹی ایس پی سمیت کسی بھی پارٹی کو حمایت نہیں دے گی۔دراصل راجیہ سبھا انتخابات میں بی ایس پی امیدوار کی شکست کو ابھی تک مایاوتی بھول نہیں پا رہی ہیں۔انہوں نے گرچہ یہ کہہ دیا ہو کہ بی جے پی کی سازش سے ایس پی اور بی ایس پی کا اتحاد کمزور نہیں ہوگا لیکن اپنے امیدوار کی شکست کو لے کر وہ سنجیدہ ہیں۔مایاوتی کہہ چکی ہیں کہ اکھلیش یادو نے سیاسی طور پر سمجھداری نہیں دکھائی اور اگر ان کی جگہ وہ ہوتیں تو اپنی پارٹی امیدوار کے بجائے بی ایس پی امیدوار کو جتاتیں۔ مایاوتی اس بات سے بھی خفا ہیں کہ اکھلیش نے بی ایس پی امیدوار کو جتانے کے لئے آزاد راجہ بھیا پر یقین کیا جبکہ انہوں نے بی ایس پی امیداور کو ووٹ نہیں دیا۔اس کے علاوہ مایاوتی نے اکھلیش سے ایس پی کے 10 اراکین اسمبلی کے ووٹ مانگے تھے لیکن ملے صرف سات ہی۔ اس کے علاوہ آر ایل ڈی کے ایک رکن اسمبلی کا ووٹ بھی بی ایس پی کو دینے کا وعدہ کیا گیا تھا لیکن وہ ووٹ جان بوجھ کر ایسے ڈالا گیا کہ وہ منسوخ ہو جائے اور اس کا فائدہ بی جے پی کو مل جائے۔کیرانہ سے آر ایل ڈی لیڈر جینت چودھری کے الیکشن لڑنے کاامکان ہے۔مایاوتی کو یہ تشویش لاحق ہے کہ اگر مغربی اترپردیش کی کیرانہ سیٹ پر سماج وادی پارٹی کو حمایت دی گئی تو مسلم ووٹر ناراض ہو سکتے ہیں اور آر ایل ڈی کو وہ فی الحال کسی قسم کی مدد دینا ہی نہیں چاہتی۔ساتھ ہی مایاوتی کی حکمت عملی یہ بھی ہے کہ لوک سبھا انتخابات سے قبل اتحاد کو لے کر اپنا سخت رخ برقرار رکھنا ہوگا تاکہ سیٹوں کی تقسیم کے دوران زیادہ سیٹیں حاصل کی جا سکیں۔


Share: